منگل , جولائی , 7 , 2020

معیشت کے لیے "ہاٹ منی فلو” نقصان دہ یا مفید؟

Hot Money Flow

کراچی: ‘ہاٹ منی فلو’ کی آسان تشریح یہ ہے کہ یہ لفظ شرح سود کے فرق اور شرح مبادلہ میں متوقع رد و بدل کی بنیاد پر قلیل عرصہ کے لیے منافع کمانے کے لیے دو ممالک کے مابین رقم منتقلی کرنے کے لیے اس لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے۔

میزبان ملک میں سرمائے کی منتقلی کا حجم سود کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ہی بڑھ جاتا ہے ۔  اس سال پاکستان میں شرح سود میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس وقت پالیسی ریٹ 13عشاریہ 25 ہے جبکہ امریکہ کے پالیسی ریٹ 1اعشاریہ 75 ہے ۔اس لیے پاکستان میں "ہاٹ منی فلو” کی آمد اس سال بڑھی ہے۔ جبکہ مختصر مدتی گورنمنٹ انویسٹمینٹ اور ایکوٹی مارکیٹ میں ایک ارب کی سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔

مگر یہاں پر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں؟

پاکستان جو کہ خود سرمائے کی قلت کا شکا ر ہے اس کے لیے ایک ارب ڈالر کی آمد کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس رقم کی آمد سے جہاں غیر ملکی ذرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤکم ہوا ہے ،وہاں پاکستان کو فارن کرنسی ریٹ میں بھی استحکام میں مدد ملی ہے ۔ یہاں واضح رہے کہ ڈالر کے مقابلے روپے میں تبدیلی کے ذریعے اعتماد کی فضا بحال ہوئی ہے ۔

جہاں اس سرمایہ کاری سے پاکستان کو فائدہ حاصل ہوا ہے وہاں اس کے تاریک پہلو بھی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق  ہاٹ منی کا بہاؤ عارضی ہوتا ہے  اور اس سے معیشت کو منفی عوامل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔وہ ممالک جو عد م استحکام کا شکار ہوئے ہیں ان میں برازیل ، تائیوان ، تھا‏ئی لینڈ، جنوبی کوریا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔

Check Also

New tax policy announced

فکسڈ ٹیکس اسکیم ، شناختی کارڈ کی پابندی عائد

اسلام آباد :سینٹ کی قا‏ئمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے اجلاس ہو ا جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے