اتوار , جنوری , 19 , 2020

انسانی دماغ کے نیورون کی طرح ایک اور مصنوعی نیورون کی ایجاد

Artificial Silicon Neoron is invented

لندن : بین الاقوامی ماہرین کی طب کی دنیا میں ایک اور حیرت انگیز ایجاد ، ماہرین نے ایک نیورون تیا ر کیا ہے جو بالکل اصل دماغی نیورون کی طرح ہے ۔

حال ہی میں ہونے والی ایک ایجاد کی خبر سامنے آئی ہے کہ طب کے ماہرین نے انسان کے دما غی نیورون کی طرح ایک مصنوعی نیورون تیا ر کیا ہے ۔ یہ نیورون انسانی جسم کے اہم حصے یعنی دل ، دماغ ، الزائمر اور دیگر اعصابی بیماریوں کے لیے کارآمد ثابت ہو ا ہے ۔

اس مصنوعی نیورون کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے اس کو پیس میکر میں لگا کر اس سے قدرتی طور پر دل کی دھڑ کنیں بحال کی جا سکتی ہیں۔  اس کو بنا نے والے یونیورسٹی آف باتھ کے سائنسدان ہیں۔ ان کے مطابق اس مصنوعی نیورون کی تخلیق کے دوران ان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے  جن میں بعض بہترین ٹیکنا لوجی کا نہ ہونا اور کبھی  باریک الیکٹرونکس کا نہ ہونا ۔

مصنوعی نیورون کی تیاری کے لیے سب سے پہلے مناسب اور پیچیدہ ریاضیات بنائی گئی جس کے بعد نیورون پہ کام شروع کیا گیا۔ اسی ضمن میں تحقیق سے وابستہ پروفیسر ایلین نوگاریٹ کا کہنا تھا کہ اس کی تخلیق کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ اس مصنوعی نیورون کی بدولت ہم دماغی خلیے کے تمام اصول اور کا م جان سکتے ہیں ۔ یہ نیورون دیکھنے میں بالکل انسانی نیورون کی طرح ہے ۔

صرف  یہ ہی نہیں بلکہ اس نیورون کو ہم اپنی مرضی اور اپنی ضرورت کے مطابق بہت سے فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے تحقیقی مقالہ میں دو نیورونز کا ذکر کیا گیا ہے جن میں اول ریسپائرٹری اور دم ہیپوکیمپس شامل ہیں  ۔ان دونو ں کا موازنہ انسانی دماغ کے انہیں خلیوں سے کیا گیا ہے اور بہت اچھی کارکردگی سامنے آئی ہے۔

تحقیقی عمل میں موجو د جولیان پیٹن نے بتایا کہ ریسپائرٹری نیورون کی وجہ سے بہت سے اسمارٹ میڈیکل آلات کی ایجاد میں مدد مل سکتی ہے  جس سے کئی قسم کی بیماریاں اور معذوریوں کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے ۔ ماہرین اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس نیورون کو نہ صرف پیس میکر میں رکھ کر دل کی دھڑکنیں بحال کی جا سکتی ہیں بلکہ الزائمر سے تباہ ہونے والے خلیات کو بھی دوبارہ سے بحال کیا جا سکتا ہے۔

Check Also

Social media impacting teenager's health

سوشل میڈیا بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت

سڈنی : سکول جانے والے 1000 بچوں کا مطالعہ کیا گیاہے جس میں یہ ظاہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے