اتوار , جنوری , 19 , 2020

سوشل میڈیا بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت

Social media impacting teenager's health

سڈنی : سکول جانے والے 1000 بچوں کا مطالعہ کیا گیاہے جس میں یہ ظاہر ہو ا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے بچوں کے کھانے پینے کے معمول بھی متاثر ہو سکتے ہیں ۔

سڈنی میں حال ہی میں چھٹی سے ساتویں جماعت کے بچوں پر تحقیق ہوئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس عمر کے بچے نشوونما کے مرحلے میں ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔

جنوبی آسٹریلیا کی فلنڈر یونیورسٹی کے ماہر نفسیات نے یہ مطالعہ کیا ہے ۔ اس مطالعہ میں 12 سے 13 سال کی عمر کے بچے ہیں جن کی تعداد 1000 رجسٹر کی گئی ہے اور یہ بچے چھٹی سے آٹھویں جماعت میں پڑھ رہے ہیں ۔

13 سال کی عمر بلوغت کی عمر ہے جو کہ 17 سے 18 سال کی عمر تک مکمل ہوجاتی ہے ۔اسی عمر میں بچے اور بچیاں دونوں میں جسمانی اور ذہنی طور پر بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں ۔

اس مطالعے کے تحت یہ بات سامنے آئی ہے کہ آج کل کے بچوں میں فیس بک ، اسنیپ چیٹ ، انسٹاگرام ، اور ٹمبلر بہت عام ہے جس سے ان کی صحت متاثر ہوئی ہے۔ چونکہ انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ پر تصاویر اور وڈیوذ شیئر کی جا سکتی ہیں اس لیے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بہت استعمال ہوتا ہے۔

مطا لعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 45 ٪ لڑکے اور 52٪ لڑکیوں نے کھانے پینے کے معاملے میں بے اعتدالی کی ہے جبکہ 70 سے 75 ٪ لڑکے ، لڑکیوں کے پاس سوشل میڈیا کا ایک ہی اکاؤنٹ ہے ۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مطالعے کو ابھی مزید وقت دینا چاہیے کیونکہ کھانے کے معاملے میں اعتدالی بچوں میں اس وقت بھی پائی گئی تھی جب سوشل میڈیا کا وجود بھی نہیں تھا۔

Check Also

Smart Pill

دوائی کی یاد دہانی کے لیے زبردست ایجاد ، مریضوں کے لیے آسانی

لندن :لندن کے ماہر ڈاکٹرز نے ایک اسمارٹ بوتل ایجاد کی ہے جس سے مریض …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے